معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت اچھے اخلاق و عادات کا حامل ہونا ہے: مفتی کفیل احمد مظاہری

نگینہ : گزشتہ شب سلیم انصاری و وسیم احمد ایڈووکیٹ انصاری کی بیٹھک میں ایک دینی و اصلاحی جلسہ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت مفتی محمد ابرار صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض مولانا محمد وارث صاحب نے انجام دئے ، جلسہ کا آغاز حافظ محمد زید کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور نعت پاک کا نذرانہ مداح رسول جناب شکیل احمد صاحب نے پیش کیا جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے مفتی کفیل احمد مظاہری نے کہا کہ انسان اللہ کی ذات پر ایمان رکھے اسے ایک مانے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ، ایمان اسی پر ہو ، توکل اور یقین بھی اسی پر ہو ، دعا اور التجا بھی اسی سے ہو ، منت اور مرادے بھی اسی سے ہو اگر اس طرح زندگی گزارے گا تو یہ انصاف والی زندگی ہوگی لیکن اگر نفع نقصان کا مالک کسی اور کو سمجھا ، منت اور مرادے کسی اور سے مانگتا رہا تو ایسے شخص کی زندگی ظلم کرنے والی زندگی ہوگی ، انہوں نے کہا کہ لوگ مزارات پر جاتے ہیں منت اور مرادے مانگتے ہیں سجدہ کرتے ہیں ایسا کرنا اللہ کے ساتھ شرک ہے اور اللہ شرک کو معاف نہیں کریگا ہمیں ان باتوں کو سمجھنا چاہیے ، انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین اور ایمانیات کے بعد انسانی معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت اچھے اخلاق و عادات کا حامل ہونا ہے۔اچھی عادات میں اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی ہے’عبادت بھی ہیں اور آپس کے معاملات بھی ہیں،لیکن شخصی مزاج اور شخصی عادات کا اچھا ہونا یہ دین اسلام کا سب سے بڑا مطالبہ اور سب سے بڑا تقاضا ہے۔خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب بندہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا کہ میرا قرب سب سے زیادہ اسے نصیب ہوگا جو سب سے زیادہ خوش اخلاق ہوگا۔ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم سوسائٹی میں اچھے لوگ دیکھنا چاہو تو ان لوگوں کو دیکھو جن کے اخلاق اچھے ہیں۔

ادھر مفتی محمد ابرار صاحب نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے ہمیں اس ماہ کے آنے سے پہلے اسکی تیاری کرنی چاہیے انہوں نے روزہ رکھنے کے فائدے بتاتے ہوئے کہا کہ روزہ ایک ڈھال ہے روزہ کے ذریعے سے آدمی متقی بن جاتا ہے گناہوں سے بچ جاتا ہے اسکی روحانیت کو ترقی حاصل ہوتی ہے اور جسم کی بھی اصلاح ہو جاتی ہے ، انہوں نے زکوۃ ادا کرنی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ

مال و دولت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے؛اس لیے اسے کلی اختیار ہے کہ وہ انسان کو اس بات کا پابند بنائے کہ کہاں سے کس طرح کمایا جائے اور کہاں کس طرح خرچ کیا جائے۔ زکوۃ ایک اہم ترین مالی عبادت اور اسلام کا بنیادی فریضہ ہے،جسے ہم دردی و غم خواری کے جذبے کو پروان چڑھانے، کے لیے فرض کیا گیا ہے۔ انسانی معیشت کی ظاہری ترقی میں مال ودولت کا کلیدی کردار رہاہے، جس طرح انسان کے دوران خون میں ذرہ برابر فرق آجائے توزندگی کو خطرہ لاحق ہوتاہے، ایسے ہی اگر گردشِ دولت منصفانہ وعادلانہ نہ ہوتومعاشرتی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔ اسی خطرہ کو زائل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے زکوۃ وصدقات کا نظام قائم فرمایا ہے؛چناں چہ شرعی اعتبار سے ہر اس مسلمان مردوعورت پر زکوۃ فرض ہے،جو صاحب نصاب ہو، انہوں نے کہا کہ ہر صاحب نصاب کی ذمہ داری ہے کہ وہ خوش دلی سے سال بہ سال اپنی زکاۃ ادا کرے، زکاۃ ادا کرنے میں ٹال مٹول نہ کرے ، آخر میں مفتی صاحب کی دعا پر پروگرام اختتام ہوا اس موقع پر مفتی ابرار احمد صاحب ، مفتی کفیل احمد صاحب مظاہری ، مولوی محمد وارث صاحب ، وسیم ایڈووکیٹ انصاری ، سلیم انصاری ، شادمان ایڈووکیٹ ، ذیشان احمد ، رحیم اختر ، فاروق انصاری ، ماسٹر شاہنواز ، سلطان احمد و کثیر تعداد میں لوگ شریک رہیں …

Please follow and like us:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *